اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاراللہ کی سیاسی کونسل کے ایک رکن نے پاکستان، مصر اور اردن جیسے ملکوں سے کہا ہے کہ وہ یمن پر حملے میں اپنی شرکت کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں کے حوالے سے اپنا موقف واضح کریں۔ سحر عالمی نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق محمد البخیتی نے الجزیرہ ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ یمن کی قوم اور اس ملک پر حملہ غور طلب امر ہے کہ جس دن یمنی عوام نے مساجد اور بیرکوں میں شہید ہونے والے ایک سو ساٹھ سے زائد افراد کی تشییع جنازہ کی، اسی رات سعودی عرب اور خلیج فارس کے بعض عرب ملکوں نے امریکہ کی حمایت سے دارالحکومت صنعاء پر حملہ کردیا۔ تحریک انصار اللہ کی سیاسی کونسل کے رکن نے کہا کہ ہمیں سعودی عرب پر تعجب ہے کہ وہ یمنی عوام کے خلاف تو جارحیت انجام دے رہا ہے لیکن سعودی عرب کے کئی ایک جزیرے صہیونی حکومت کے قبضے میں ہیں اور سعودی حکومت اس کے خلاف کچھ نہیں کررہی۔ محمد البخیتی نے کہا کہ میں نے خلیج فارس کے عرب ممالک کے ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سنی ہے کہ مصر اردن اور پاکستان بھی ان ہوائی حملوں میں شریک ہیں لہذا میں ان ملکوں سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر اس خبر میں حقیقت پائی جاتی ہے تو وہ اپنے موقف واضح کریں- انہوں نے کہا کہ میں ان حکومتوں اور ان ملکوں کی قوموں سے یہی کہنا چاہوں گا یہ کام مناسب نہیں ہے کہ بے گناہوں ہر حملہ کرکے ان کا قتل عام کیا جائے۔ تحریک انصار اللہ کے سیاسی کونسل کے رکن نے کہا کہ ہم خداوند عالم کی طاقت اور یمن کی عظیم قوم کی شجاعت پر یقین رکھتے ہیں اور اسی پر بھروسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کی قوم اس خطرے اور دہشت گردانہ اقدامات کے مقابلے میں متحد ہے۔ ان حملوں کا مقصد یمنی عوام کو ان کے انقلاب کی تکمیل سے باز رکھنا ہے۔ ان حملوں نے ملت یمن کے عزم کو مزید مضبوط بنا دیا ہے۔
.......
/169